کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 258
باتوں کی نصیحتیں کی جائیں۔ ایک دوسرے کو نیکی کے کام کرنے کی ترغیب دی جائے اور گناہوں سے بچ کر رہنے کی تلقین کی جائے۔ یہی اصل ہمدردی اور محبت ہے کہ اپنے بھائی کے ساتھ دُنیوی زندگی گزارتے ہوئے ساتھ ساتھ اس کو اُخروی زندگی میں بھی اپنا ہمراہی اور ساتھی بنانے کی تڑپ رکھی جائے اور اسے ان اعمال کا عامل بنانے کی کوشش کی جائے کہ جن کی وجہ سے وہ اس کا جنت میں بھی ساتھی بن جائے۔ (۴) مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملیں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَیْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ)) [1] ’’نیکی کے کسی بھی کام کو بالکل بھی کمتر مت سمجھو، خواہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ہی ملو۔‘‘ (۵) مسکرا کر ملیں اور ہر دَم اس کے کام آئیں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تَبَسُّمُکَ فِی وَجْہِ أَخِیکَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَأَمْرُکَ بِالمَعْرُوفِ وَنَہْیُکَ عَنِ المُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، وَإِرْشَادُکَ الرَّجُلَ فِی أَرْضِ الضَّلَالِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَبَصَرُکَ لِلرَّجُلِ الرَّدِیئِ البَصَرِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَإِمَاطَتُکَ الحَجَرَ وَالشَّوْکَۃَ وَالعَظْمَ عَنِ الطَّرِیقِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَإِفْرَاغُکَ مِنْ دَلْوِکَ فِی دَلْوِ أَخِیکَ لَکَ صَدَقَۃٌ)) [2] ’’تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی کے رُوبرو مسکرا دینا تمہارے لیے صدقہ ہے، تمہارا نیک کام کرنے کو کہنا اور برے کام سے روکنا بھی تمہارے لیے صدقہ [1] صحیح مسلم: ۲۶۲۶. [2] سنن الترمذی: ۱۹۵۶.