کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 253
’’یقینا اللہ تعالیٰ روزِقیامت فرمائے گا: میرے جلال وعظمت کی خاطرباہم محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج کہ جس دِن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے، میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔‘‘ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الْمُتَحَابِّینَ بِاللّٰہِ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ)) [1] ’’بلاشبہ اللہ کی خاطر باہم محبت کرنے والے عرش کے سائے میں ہوں گے۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ایسے سعادت مند افراد کا ذکر کیا جن کو اللہ تعالیٰ روزِقیامت اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا، ان میں سے ایک یہ ہوں گے: ((وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِی اللّٰہِ، اجْتَمَعَا عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ)) [2] ’’وہ دو آدمی جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اسی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں۔‘‘ 8. رب تعالیٰ کے اِکرام کا سبب سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلّٰہِ إِلَّا أَکْرَمَ رَبَّہٗ))[3] ’’جو بھی بندہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے پروردگار کی عزت کرتا ہے۔‘‘ رضائے الٰہی کی خاطر کسی مسلمان سے محبت کرنا گویا اللہ تعالیٰ کا اِکرام کرنے کے مترادف ہے۔ 9. خیر و بھلائی کا حامل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح الجامع: ۱۹۳۷. [2] صحیح البخاری: ۶۶۰۔صحیح مسلم: ۱۰۳۱. [3] مسند أحمد: ۲۲۲۲۹.