کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 252
اللہ کی جانب سے یہ بتلانے کے لیے بھیجا گیا کہ جس طرح تم اس سے اللہ کی خاطر محبت کرتے ہو، اللہ بھی تم سے اسی طرح محبت کرتا ہے۔‘‘ 6. نور کے منبروں پر جلوہ افروزی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُتَحَابُّونَ فِیْ جَلَالِی لَھُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، یَغْبِطُھُمُ النَّبِیُّونَ وَالشُّھَدَائُ)) [1] ’’میرے جلال و عظمت کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کو (روزِقیامت) نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا، (جس کی وجہ سے) انبیاء اور شہدا بھی ان پر رشک کریں گے۔‘‘ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُتَحَابُّونَ فِیَّ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، یَغْبِطُھُمْ بِمَکَانِھِمْ النَّبِیُّونَ وَالصِّدِّیقُونَ وَالشُّھَدَائُ)) [2] ’’میری خاطر آپس میں محبت کرنے والے (قیامت کے روز) نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، ان کے مقام و مرتبہ کو دیکھ کر انبیاء، صدیقین اور شہداء ان پر رشک کر رہے ہوں گے۔‘‘ 7. سایۂ عرش کے حصول کا باعث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُولُ یَومَ الْقِیَامَۃِ: أَینَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِی، اَلْیَومَ أُظِلُّھُمْ فِی ظِلِّی یَومَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّی)) [3] [1] صحیح الجامع: ۴۳۱۲. [2] صحیح الجامع: ۴۳۲۱. [3] صحیح مسلم: ۲۵۶۶.