کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 251
وَحَقَّتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَوَاصِلِینَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَنَاصِحِینَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَزَاوِرِینَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَبَاذِلِینَ فِیَّ)) [1] ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری خاطر باہم محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو چکی ہے، میری وجہ سے ایک دوسرے سے جُڑنے والوں کے لیے میری محبت مستحکم ہو گئی ہے، میری رضا کے لیے آپس میں خیرخواہی کرنے والوں کے لیے میری محبت مضبوط ہوچکی ہے، میری خوشنودی کی خاطر باہم ملاقات کرنے والوں کے لیے میری محبت پکی ہو چکی ہے اور مجھ کو راضی کرنے کے لیے ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو چکی ہے۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَہٗ فِی قَرْیَۃٍ أُخْرٰی، فَأَرْصَدَ اللّٰہُ لَہٗ عَلٰی مَدْرَجَتِہٖ مَلَکًا، فَلَمَّا أَتٰی عَلَیْہِ قَالَ: أَیْنَ تُرِیدُ؟ قَالَ: أُرِیدُ أَخًا لِی فِی ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ، قَالَ: ہَلْ لَکَ عَلَیْہِ مِنْ نِعْمَۃٍ تَرُبُّہَا؟ قَالَ: لَا، غَیْرَ أَنِّی أَحْبَبْتُہٗ فِی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَاِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْکَ، بِأَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَہٗ فِیہِ)) [2] ’’ایک آدمی دوسرے بستی میں اپنے (مسلمان) بھائی سے ملنے کے لیے گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو کھڑا کر دیا۔ جب وہ اس جگہ پہنچا تو فرشتے نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: میں اس بستی میں اپنے ایک بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا: کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جس کا بدلہ چکانے کے لیے تم جا رہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، میں تو صرف رضائے الٰہی کی خاطر اس سے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا: میں تمہاری طرف [1] صحیح الجامع: ۴۳۲۰. [2] صحیح مسلم: ۲۵۶۷.