کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 250
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ وَجَدَ حَلاَوَۃَ الإِیمَانِ: أَنْ یَکُونَ اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا، وَأَنْ یُحِبَّ المَرْئَ لاَ یُحِبُّہٗ إِلَّا لِلّٰہِ، وَأَنْ یَکْرَہَ أَنْ یَعُودَ فِی الکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُقْذَفَ فِی النَّارِ)) [1] ’’تین اعمال جس شخص میں موجود ہوں، وہ ایمان کی مٹھاس پا لے گا: 1۔ اللہ اور اس کا رسول؛ اس کی نظر میں ان کے علاوہ ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں۔ 2. وہ جس بھی آدمی سے محبت کرے؛ اس سے فقط اللہ کی رضا کے لیے محبت کرے۔ 3. اس کو دوبارہ کفر میں جانااسی طرح ناپسند ہو جس طرح وہ جہنم میں ڈال دیا جانا ناپسند کرتا ہو۔‘‘ 4. کمالِ ایمان کی دلیل سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَحَبَّ لِلّٰہِ وَأَبْغَضَ لِلّٰہِ وَأَعْطٰی لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْإِیمَانَ)) [2] ’’جو شخص اللہ کے لیے محبت کرے، اللہ کے لیے نفرت رکھے، اللہ کے لیے دے اور اللہ کے لیے روکے، تو یقینا اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔‘‘ 5. محبت الٰہی کے حصول کا ذریعہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: حَقَّتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَحَابِّینَ فِیَّ، [1] صحیح البخاری: ۱۶۔ صحیح مسلم: ۶۳. [2] صحیح الجامع: ۵۹۶۵۔سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۳۸۰.