کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 247
مناسب معلوم ہوا کہ ہم اسلامی اخوت کے مفاہیم، فضائل اور تقاضوں کو بھی سمجھیں۔ اُخوت کا مطلب ہے بھائی چارہ۔ اس کی تین صورتیں ہیں: 1 دو آدمیوں کی ولادت میں مشارکت ہو، یعنی دونوں کے ماں باپ ایک ہوں۔ 2 دو آدمیوں کی رضاعت میں مشارکت ہو، یعنی دونوں نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا ہو، یہ آپس میں رضاعی بھائی کہلاتے ہیں۔ 3 دو آدمیوں کا آپس میں فقط دِین کی وجہ سے تعلق ہو۔ یہاں ہماری مراد اور موضوع مؤخرالذکر ہے، یعنی دِینی اور اسلامی بھائی چارہ۔ یہ ایسا تعلق اور رِشتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وابستہ لوگوں کے لیے بے شمار انعامات اور فضائل بیان فرمائے ہیں، جن میں سے چند فضائل ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔ 1. اللہ کے لیے محبت؛ ایمان کی علامت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ، لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتّٰی تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ)) [1] ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم تب تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم ایمان والے نہ بن جاؤ اور تم تب تک ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگ جاؤ، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں کہ جب تم وہ کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟ (وہ یہ ہے کہ) اپنے درمیان سلام کو خوب عام کرو۔‘‘ اس حدیث مبارکہ میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دخولِ جنت کے لیے ایمان کی شرط لگائی [1] صحیح مسلم: ۵۴.