کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 241
کے ساتھ ستر ہزار،اورمزید اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے تین چلو بھرے لوگوں کو بغیر حساب وعذاب کے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ 6… دین اسلام عزت کا منبع ومصدرہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: إِنَّا کُنَّا أَذَلَّ قَوْمٍ فَأَعَزَّنَا اللّٰہُ بِالْإِسْلَامِ فَمَہْمَا نَطْلُبُ الْعِزَّ بِغَیْرَ مَا أَعَزَّنَا اللّٰہُ بِہٖ أَذَلَّنَا اللّٰہُ۔[1] ’’ہم ذلیل ترین لوگ تھے، اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت دی اور جب ہم اس اسلام کوچھوڑ کر کہ جس نے ہمیں عزت دی، کسی اور چیز سے عزت تلاش کریں گے تواللہ ہمیں ذلیل کردے گا۔‘‘ اسلام کے ارکان دِین اسلام کے پانچ ارکان اور بنیادیں ہیں، جن پہ اسلام کی عمارت قائم ہے، جیساکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بُنِیَ الْإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ:شَہَادَۃِ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَإِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکٰوۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ)) [2] ’’اسلام کی بنیاد پانچ امور پر رکھی گئی ہے: گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘ [1] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۵۱. [2] صحیح البخاری: ۸۔صحیح مسلم: ۱۱۳.