کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 240
’’جن کے ساتھ تمہارے باپوں نے شادی کی ان سے تم نکاح نہ کرو مگر جو گزر گیا۔‘‘ جبکہ دورِجاہلیت میں نہ تو عورت حسن معاشرت کی مستحق سمجھی جاتی تھی اور نہ اس کے ساتھ احسان کیا جاتا تھا بلکہ اس کو بازاروں میں بیچا جاتا اور بچیوں کو زندہ درگور کیاجاتا تھا اور بیٹا ہی باپ کی وفات کے بعد اپنی چادر اپنی ماں کے سر پہ ڈال کر بیوی بنا لیتا۔اس مذکورہ ظلم واستبداد کواسلام نے ہی آ کر رحمت کامظاہر ہ کرتے ہوئے آسانی میں بدلا۔ ٭…محاسبہ میں اسلام کی آسانی ورحمت: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِیْ عَمَّا حَدَثَتْ بِہٖ أَنْفُسَہَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ بِہٖ))[1] ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے تجاوز فرمایا ہے (یعنی وہ محاسبہ نہیں کرتا) جب تک وہ ان خیالات کو زبان پر لائیں اور عمل نہ کرلیں۔‘‘ یہی نہیں بلکہ اسلام کا یہ خاصہ اور امتیاز ہے کہ اپنے ماننے والوں کو معمولی سے عمل پر بھی بیش بہا انعامات سے نوازتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((وَعَدَنِیْ رَبِّیْ أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِیْ سَبْعِیْنَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَیَاتٍ مِنْ حَثَیَاتِہٖ))[2] ’’میرے اللہ نے مجھ سے وعدہ کیاہے کہ وہ میری امت سے سترہزاراور ہر ہزار [1] صحیح البخاری: ۲۳۹۱، ۴۹۶۸، ۶۲۸۷۔صحیح مسلم: ۳۲۷، ۳۲۸. [2] سنن الترمذی: ۲۴۳۷۔سنن ابن ماجہ: ۸۶۴۲.