کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 239
٭…عبادت میں اسلام کی آسانی ورحمت: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ((صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ)) [1] ’’کھڑے ہو کر نماز پڑھ، اگر تو طاقت نہ رکھے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لینا، اگر تجھ میں اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لینا۔‘‘ ٭…وراثت میں اسلام کی آسانی ورحمت: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾ [النساء:۱۱] ’’تمہیں اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتے ہیں کہ مرد کے لیے دو عورتوں کے مثل حصہ ہے۔‘‘ جبکہ دورِجاہلیت میں عورت کو وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا۔ ٭… حُسن معاشرت میں اسلام کی آسانی ورحمت: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرۃ: ۲۲۹] ’’طلاق دو مرتبہ ہے پھر اچھے طریقے سے رکھنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دیناہے۔‘‘ اسی طرح فرمایا: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ﴾ [النساء: ۲۲] [1] صحیح البخاری: ۱۱۱۷.