کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 234
11. اسلام پسندیدہ اور مکمل دین ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾ [المائدۃ : ۳] ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنا بھر پورانعام کر دیا اورتمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کرلیا۔‘‘ 12. اسلام پر رضامندی اللہ کو راضی کرنا کا سبب ہے: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یِقُوْلُ حِیْنَ یُصْبِحُ وَحِیْنَ یُمْسِیْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُرْضِیَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) ’’کوئی بھی مسلمان شخص صبح وشام تین مرتبہ یہ دعا پڑھے: رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا ’’میں اللہ کو رب، اسلام کو دین حق،اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننے پر راضی ہو گیا۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بن جاتا ہے کہ اسے قیامت کے دن راضی فرمائے گا۔[1] 13. اسلام آگ سے نجات کا سبب ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ غُلاَمُ یَہُوْدِیٌ یَخْدِمُ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَمَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم یَعُوْدُہُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَقَالَ: ((أَسْلِمْ)) فَنَظَرَ إِلٰی أَبِیْہِ وَہُوَ عِنْدَہُ فَقَالَ لَہُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم وَہُوَ [1] سنن الترمذی: ۳۳۸۵۔سنن أبی داود: ۵۰۷۲۔سنن ابن ماجہ: ۳۸۷۰.