کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 232
مان کر راضی ہو گیا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔‘‘ 6.اسلام نیکیوں میں بڑھوتی کا باعث: سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُکُمْ إِسْلَامَہُ فَکُلُّ حَسَنَۃٍ یَعْمَلُہَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا إِلٰی سَبْعِمِأَۃِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَیِّئَۃٍ یَعْمَلُہَا تُکْتَبُ لَہُ بِمِثْلِہَا حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ)) [1] ’’جب کوئی اپنے اسلام کو اچھا کرلیتاہے تو ہر نیکی کو، جو وہ کرتا ہے، دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک لکھا جاتاہے اورہر برائی جو وہ کرتا ہے وہ ایک مثل ہی لکھی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ رب العزت سے جا ملتا ہے۔‘‘ 7. اسلام دنیا وآخرت میں خیر وبرکت کا باعث: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہ لَا یَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَۃً یُعْطِی بِہَا اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَیُجْزِیْ بِہَا فِی الْآخِرَۃِ وَأَمَّا الْکَافِرُ فَیُطْعَمُ بِحَسَنَاتٍ مَا عَمِلَ بِہَا لِلّٰہِ فِی الدُّنْیَا حَتّٰی إِذَا اَفْضٰی إِلَی الْآخِرَۃِ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَسَنَۃٌ یُجْزٰی بِہَا)) [2] ’’اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کا بھی ظلم نہ کرے گا، وہ اس کا بدلہ دنیا میں دے گااور آخرت میں بھی دے گااو رکا فر کو اس کی نیکیوں کے بدلے میں دنیا میں ہی کھلا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب آخرت ہوگی تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ رہے گی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۴۲، ۶۱۲۶۔صحیح مسلم: ۱۲۹. [2] صحیح مسلم: ۲۸۰۸.