کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 231
((أَیُّمَا أَہْلِ بَیْتٍ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ أَرَادَ اللّٰہُ بِہِمْ خَیْرًا أَدْخَلَ عَلَیْہِمُ الْاِسْلَامَ ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ کَأَنَّہَا الظُّلَلُ)) [1] ’’ عرب وعجم میں سے ہر وہ گھر والے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کاارادہ فرماتا ہے توان پراسلام کو داخل فرما دیتا ہے، پھر (ان پر) آزمائشوں کا اس طرح ظہور ہوتا ہے کہ جیسے سائے ہوں۔‘‘ 5.اسلام کے ساتھ تھوڑا عمل بھی زیادہ اجر کا باعث: سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَتَی النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالْحَدِیْدِ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمَ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم : ((أَسْلِمْ ثُمَّ تُقَاتِلْ)) فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم عَمِلَ قَلِیْلًا وَأُجِرَ کَثِیْرًا)) [2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔ چنانچہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے عمل توکم کیا ہے لیکن اجر بہت پایا گیاہے۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ذَاقَ طَعْمَ الْإِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا)) [3] ’’جواللہ کو اپنا پروردگار مان کر،اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول [1] مسند أحمد: ۱۵۹۱۷. [2] صحیح البخاری: ۲۸۰۸۔صحیح مسلم: ۱۹۰۰. [3] صحیح مسلم: ۱۵۰.