کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 229
کردیتا ہے۔‘‘ 3. اسلام جاہلیت کے اعمال کی معافی کا نام ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ؟ قَالَ: ((مَنْ أَحْسَنَ فِی الْإِسْلَامِ لَمْ یُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَمَنْ أَسَائَ فِی الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالأَوَّلَ وَالْآخِرِ)) [1] ’’ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جو جاہلیت میں اعمال کرتے تھے کیا ان کا بھی مواخذہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا عمل کیا تو اس کے جاہلیت میں کیے ہوئے کاموں کا مؤاخذہ نہیں ہوگا او رجس نے اسلام میں برا عمل کیا تو وہ پہلے اور بعد والے سب کاموں میں پکڑا جائے گا۔‘‘ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے عرض کیا: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَرَاَیْتَ أُمُوْرًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مِنْ صَدَقَۃٍ اَوْعَتَاقَۃٍ اَوْصِلَۃِ رَحِمٍ، أَفِیْہَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صلي اللّٰه عليه وسلم : ((أَسْلَمْتَ عَلٰی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَیْرٍ)) [2] ’’اے اللہ کے رسول! صدقہ وخیرات، غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی جیسے ان کاموں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جنہیں میں جاہلیت میں کیاکرتا تھا، کیا اس میں بھی اجر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گزشتہ نیک اعمال کی بنا پر ہی اسلام لائے ہو۔‘‘ 4. اسلام صراط مستقیم (سیدھی راہ)کانام ہے: سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح البخاری: ۶۵۲۳۔صحیح مسلم:۳۱۵، ۳۱۴ . [2] صحیح البخاری: ۱۳۰۹، ۲۱۰۷، ۲۴۰۱۔صحیح مسلم: ۳۲۰.