کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 228
فَلَمَّا جَعَلَ اللّٰہُ الْإِسْلاَمَ فِیْ قَلْبِیْ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَقُلْتُ: اُبْسُطْ یَمِیْنَکَ فلَأُبَایِعْکَ، فَبَسَطَ یَمِیْنَہٗ، قَالَ: فَقَبَضْتُ یَدِیْ، قَالَ: ((مَا لَکَ یَا عَمْرٌو؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ: ((تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟)) قُلْتُ: ((أَنْ یُغْفَرَلِیْ)) قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہٗ، وَأَنَّ الْہِجْرَۃَ تہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہَا، وَأَنَّ الْحَجَّ یہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ))۔[1] ’’جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں جاگزیں کر دی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلا دیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا: اے عمرو! کیا ہوا؟ میں نے کہا: میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیسی شرط رکھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: یہی کہ (قبولِ اسلام کے بعد) میرے گناہوں کو بخش دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام پچھلے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے او رہجرت سابقہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور حج بھی ماقبل گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔‘‘ 2. اسلام شرح صدر (سینے کو کھولنے) کا سبب ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَمَنْ يُرِدِ اللّٰهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا ﴾ [الأنعام: ۱۲۵] ’’سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راہ راست پر ڈالنا چاہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو بے راہ رکھنا چاہے اس کے سینے کو بہت تنگ [1] صحیح البخاری: ۴۵۳۲۔صحیح مسلم: ۳۱۷.