کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 226
پہلا اصول: اسلام اسلام کا معنی و مفہوم اسلام کا لغوی معنی ہے ’’مطیع و فرمانبردار ہونا، معاملے کو اللہ کے سپردکردینا، مذہب اسلام کو قبول کرنا۔ یعنی اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان مذہب اسلام کو قبول کر کے اطاعت وفرمانبرداری کے لیے اپنی گردن کو اللہ کے سامنے پیش کردے اور شیطان جوکہ انسان کا ازلی دشمن ہے اس کے وسوسوں کو چھوڑ کر اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کر دے۔ اصطلاحی طور پر اسلام کی تعریف یوں کی گئی ہے: ہُوَ الْاِسْتِسْلَامُ لِلّٰہِ بِالتَّوْحِیْدِ وَالْاِنْقِیَادُ لَہٗ بِالطَّاعَۃِ وَالْبَرَائَ ۃُ مِنَ الشِّرْکَ وَأَہْلِہٖ۔ ’’اسلام اللہ کی توحید کو تسلیم کرنے، اس کا مطیع وفرمانبردارہونے اور شرک اور اہل شرک سے براء ت اختیار کرنے کا نام ہے۔‘‘ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ [البقرۃ: ۱۳۱] ’’جب (ابراہیم علیہ السلام ) سے اس کے رب نے کہا کہ مطیع ہو جاؤ تواس نے کہا: میں رب العالمین کا مطیع ہوگیا۔‘‘ اور علامہ کفوی رحمہ اللہ نے اسلام کی اصطلاحی تعریف یوں کی ہے: ہُوَ الْاِعْتِرَافُ (الإِقْرَارُ بِالشَّہَادَتَیْنِ) مَعَ الْاِعْتِقَادِ بِالْقَلْبِ وَالْوَفَائِ بِالْفِعْلِ۔[1] [1] الکلیات للکفوی، ص: ۱۱۲.