کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 225
متفق ہو گئے تھے کہ اس کی تاج پوشی کریں اور اس کے سر پر سرداری کی پگڑی باندھیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبے کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا ہے جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو یہ بھڑک اُٹھا ہے، اسی وجہ سے اس نے یہ کردار ادا کیا ہے جو آپ نے مشاہدہ کیا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔‘‘ نہایت اہم بات: سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَہْلُ الْجَنَّۃِ عِشْرُونَ وَمِئَۃ صَفّ، ثَمَانُونَ مِنْ ہٰذِہِ الأُمَّۃِ، وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ)) [1] ’’جنتیوں کی ایک سوبیس (120)صفیں ہوں گی، اَسّی صفیں اِس اُمت کی اور چالیس باقی تمام اُمتوں کی ہوں گی۔‘‘ اس حدیثِ مبارکہ کے پیشِ نظر اس بات کو سمجھیں کہ جس اُمت کے افراد کی تعداد اتنی کثرت میں ہو گی، اسے راہِ راست پر اور دِین کی طرف لانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، تاکہ یہ اُمت تعداد میں زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ جنت میں بھی زیادہ سے زیادہ جائے۔ اور اس کے لیے ہمیں دعوت و تبلیغ کا مشن اپنانا ہو گا اور اسے اس انداز میں ادا کرنا ہو گا جیسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھلایا ہے۔ تو آئیے! اس مشن کو علمی و منہجی انداز میں پیش کرنے کے لیے اس کے اصولوں کا مطالعہ کریں۔ سب سے پہلا اصول ’’اسلام‘‘ ہے، جس کے متعلق آپ آئندہ صفحات میں تفصیل سے پڑھیں گے۔ [1] سنن ابن ماجہ: ۴۲۸۹.