کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 222
5. یہود و نصارٰی کو دعوتِ اسلام: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ((تَأْتِی قَوْمًا أَہْلَ کِتَابٍ، فَادْعُہُمْ إِلٰی شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ، فَإِنْ ہُمْ قَدْ أَطَاعُوکَ بِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِہِمْ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوکَ لِذَالِکَ فَإِیَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّہَا لَا تُحْجَبُ)) [1] ’’تُو ایسی قوم کے پاس جا رہا ہے جو اہلِ کتاب ہیں، لہٰذا تم انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں ہے اور یقینا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ سو اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر شب و روز میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پھر اگر وہ اس بات میں بھی تمہاری اطاعت کریں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اموال میں زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال داروں سے وصول کر کے ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری اس بات کو بھی تسلیم کر لیں تو پھر ان کے عمدہ مالوں (کو زکاۃ میں وصول کرنے) سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ اس (کی قبولیت) میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہوتی۔‘‘ 6. مسلمانوں ،مشرکوں ،یہودیوں اور منافقوں کو دعوت: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: [1] صحیح البخاری: ۱۳۹۵۔صحیح مسلم: ۱۹.