کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 221
رُوم کے بادشاہ ہرقل کے نام پیغام! اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے، امابعد! یقینا میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ، سلامتی میں رہو گے، اللہ تعالیٰ تمہیں دوہرا اجر دے گا، لیکن اگر تم نے سرتابی کی تو تیری رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہی ہو گا۔‘‘ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَتَبَ إِلٰی کِسْرٰی، وَقَیْصَرَ، وَأُکَیْدِرَ دُومَۃَ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسرٰی، قیصر اور دومہ کے (حکمران) اُکیدر کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط بھیجے۔‘‘ 4. مجوسیوں کو دعوتِ اسلام: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بَعَثَ بِکِتَابِہٖ إِلٰی کِسْرٰی مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُذَافَۃَ السَّھْمِیِّ، فَأَمَرَہٗ أَنْ یَدْفَعَہٗ إِلٰی عَظِیمِ البَحْرَیْنِ، فَدَفَعَہٗ عَظِیمُ البَحْرَیْنِ إِلٰی کِسْرَی، فَلَمَّا قَرَأَہٗ مَزَّقَہٗ، فَدَعَا عَلَیْہِمُ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنْ یُمَزَّقُوا کُلَّ مُمَزَّقٍ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خط عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے ذریعے کسرٰی بادشاہ کی طرف روانہ کیا اور انہیں (یعنی عبداللہ رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا کہ وہ یہ خط بحرین کے گورنر کو دیں اور بحرین کا گورنر یہ خط کسرٰی پہنچائے۔ کسرٰی نے جب آپ کا خط مبارک پڑھا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف بددعا کی کہ انہیں بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔‘‘ [1] صحیح ابن حبان: ۶۵۵۳. [2] صحیح البخاری: ۴۴۲۴.