کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 220
اسلام قبول کر لو، سلامتی میں رہو گے۔ انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہی چاہتا ہوں (کہ تم اقرار کر لو کہ میں نے پیغام پہنچا دیا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: یادرکھو! زمین اللہ کی ہے اور اس کے رسول کی ہے، اور میں تمہیں اس زمین سے جلاوطن کرنے والا ہوں۔ جسے اپنے مال میں سے کچھ ملتا ہو تو وہ اسے بیچ لے، ورنہ یادرکھو! زمین اللہ کی ہے اور اس کے رسول کی۔‘‘ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ الیَہُودِ، وَیْلَکُمْ، اتَّقُوا اللّٰہَ، فَوَاللّٰہِ الَّذِی لاَ إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ، إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ حَقًّا، وَأَنِّی جِئْتُکُمْ بِحَقٍّ، فَأَسْلِمُوا)) [1] ’’اے یہودیوں کی جماعت! تمہاری تباہی ہو! اللہ سے ڈر جاؤ! اللہ کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یقینا تم جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسولِ برحق ہوں اور میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، لہٰذا تم اسلام لے آؤ۔‘‘ 3.عیسائیوں کو دعوتِ اسلام: سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُوم کے بادشاہ ہرقل کی طرف دعوتِ اسلام کا پیغام ان الفاظ میں لکھا تھا: ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُولِہٖ إِلٰی ہِرَقْلَ عَظِیمِ الرُّومِ: سَلاَمٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الہُدٰی، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّی أَدْعُوکَ بِدِعَایَۃِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، یُؤْتِکَ اللّٰہُ أَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ، فَإِنْ تَوَلَّیْتَ فَإِنَّ عَلَیْکَ إِثْمَ الأَرِیسِیِّینَ)) [2] ’’بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے [1] صحیح البخاری: ۳۹۱۱. [2] صحیح البخاری: ۷.