کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 218
غیر مسلموں کو دعوتِ اسلام 1.مشرکوں کو دعوتِ اسلام: سیدنا ربیعہ بن عباد الدیلی رضی اللہ عنہ ، جو کہ پہلے مشرک تھے اور پھر اسلام لے آئے، بیان کرتے ہیں کہ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰهَ صَلَّی اللّٰہُ علیہ وسلم مَ بَصَرَ عَیْنِی بِسُوقِ ذِی الْمَجَازِ، یَقُولُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوا)) وَیَدْخُلُ فِی فِجَاجِہَا وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُونَ عَلَیْہِ، فَمَا رَأَیْتُ أَحَدًا یَقُولُ شَیْئًا، وَہُوَ لَا یَسْکُتُ، یَقُولُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوا)) إِلَّا أَنَّ وَرَائَ ہٗ رَجُلًا أَحْوَلَ وَضِیئَ الْوَجْہِ، ذَا غَدِیرَتَیْنِ یَقُولُ: إِنَّہٗ صَابِئٌ، کَاذِبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالُوا: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، وَہُوَ یَذْکُرُ النُّبُوَّۃَ، قُلْتُ: مَنْ ہٰذَا الَّذِی یُکَذِّبُہٗ؟ قَالُوا: عَمُّہُ أَبُو لَہَبٍ۔[1] ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، میری آنکھ نے آپ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ فرما رہے تھے: اے لوگو! لااِلٰہ اِلااللہ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بازار کی گلیوں میں داخل ہو جاتے جبکہ لوگوں نے آپ پر ہجوم کیا ہوا تھا، میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ جو کچھ کہہ رہا ہو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہو رہے تھے اور آپ کہتے جا رہے تھے: اے لوگو! لااِلٰہ اِلااللہ کہہ [1] مسند أحمد: ۱۶۰۲۳.