کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 217
سے سزا دی جاتی ہے۔ (3) جب وہ اپنے مالوں کی زکاۃ دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے۔ (4) جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دِیے جاتے ہیں، وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ (5) جب بھی ان کے امام (لیڈر اور حکمران) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔‘‘ معاشرے میں ہر جابر و متکبر کی تربیت و دعوت کا میدان: اس کی صورت یہ ہے کہ حکومت اپنا کردار ادا کرے، وزارتِ مذہبی امور اپنا کردار ادا کرے، غیرمسلم ممالک کے حکمرانوں کو خط لکھے، انہیں قبولِ اسلام کی دعوت دے، انہیں احسن انداز میں اللہ کا پیغام پہنچانے کی سرکاری سطح پر کوشش کی جائے، جیسا کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَتَبَ إِلٰی کِسْرٰی، وَإِلٰی قَیْصَرَ، وَإِلَی النَّجَاشِیِّ، وَإِلٰی کُلِّ جَبَّارٍ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی ، وَلَیْسَ بِالنَّجَاشِیِّ الَّذِی صَلّٰی عَلَیْہِ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔[1] ’’اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسرٰی، قیصر، نجاشی اور ہر سرکش بادشاہ کی طرف اللہ کی دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ بھیجے، اور یہ وہ نجاشی نہیں تھا جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِجنازہ پڑھائی تھی۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۱۷۷۴.