کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 216
ہونے، خون کے ارزاں ہونے، رِشتہ داری ٹوٹنے اور نوعمر لڑکوں کے قرآن کو بانسریاں بنا کر پڑھنے سے پہلے پہلے، کہ جنہیں لوگ نماز میں اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں قرآن کو گانے کے انداز میں پڑھ کر سنائے حالانکہ وہ اپنی فہم میں سب سے کم تر ہوں گے۔‘‘ ٭…سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِیتُمْ بِہِنَّ، وَأَعُوذُ بِاللّٰہِ أَنْ تُدْرِکُوہُنَّ: لَمْ تَظْہَرِ الْفَاحِشَۃُ فِی قَوْمٍ قَطُّ حَتّٰی یُعْلِنُوا بِہَا، إِلَّا فَشَا فِیہِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِی لَمْ تَکُنْ مَضَتْ فِی أَسْلَافِہِمُ الَّذِینَ مَضَوْا، وَلَمْ یَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ، إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِینَ، وَشِدَّۃِ الْمَؤنَۃِ، وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَیْہِمْ، وَلَمْ یَمْنَعُوا زَکَاۃَ أَمْوَالِہِمْ، إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَائِ، وَلَوْلَا الْبَہَائِمُ لَمْ یُمْطَرُوا، وَلَمْ یَنْقُضُوا عَہْدَ اللّٰہِ وَعَہْدَ رَسُولِہِ، إِلَّا سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ، فَأَخَذُوا بَعْضَ مَا فِی أَیْدِیہِمْ، وَمَا لَمْ تَحْکُمْ أَئِمَّتُہُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ، وَیَتَخَیَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ، إِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ بَأْسَہُمْ بَیْنَہُمْ)) [1] ’’اے مہاجروں کی جماعت! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گئے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ (بری چیزیں) تم تک پہنچیں: (1) جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) علانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔ (2) جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ان پر قحط سالی، روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے [1] صحیح الجامع: ۷۹۷۸۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۰۶.