کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 213
کے لیے دو اونٹنیاں حاصل کرنے سے بہتر ہوں گی، تین آیات سیکھنا تین اونٹنیوں سے اور چار آیات چار اونٹنیوں سے بہتر ہوں گی۔ اسی طرح جتنی تعداد بڑھتی جائے گی، وہ اتنی ہی اونٹنیوں سے بہتر ہوں گی۔‘‘ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ الْفُقَرَائِ أَلَا أُبَشِّرُکُمْ أَنَّ فُقَرَائَ الْمُؤْمِنِینَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ أَغْنِیَائِہِمْ بِنِصْفِ یَوْمٍ، خَمْسِمِائَۃِ عَامٍ)) ثُمَّ تَلَا مُوسٰی ہٰذِہِ الْآیَۃَ: ﴿ وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ﴾ [الحج: ۴۷][1] ’’اے فقراء کی جماعت! کیا میں تمہیں بشارت نہ سناؤں کہ مومن فقراء جنت میں مال داروں سے آدھا دِن (یعنی) پانچ سو سال پہلے داخل ہو جائیں گے۔ پھر موسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ’’اور یقینا تیرے رب کے ہاں ایک دِن تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے مانند ہے۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ: جَائَ الْفُقَرَائُ إِلَی النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَقَالوُا: ذَہَبَ أَہَلُ الدُّثُورِ مِنَ الأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعَلٰی وَالنَّعِیمِ الْمُقِیمِ، یُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّی وَیَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ، وَلَہُمْ فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ یَحُجُّونَ بِہَا وَیَعْتَمِرونَ، وَیُجَاہِدُونَ وَیَتَصْدَّقُونَ، قَالَ: ((أَلاَ أُحَدِّثُکُمْ بأَمْرٍ، إِنْ أَخْذتُمْ بِہٖ أَدْرَکْتُمْ مَنْ سَبَقَکُمْ، وَلَمْ یُدْرِکْکُمْ أَحَدٌ بَعْدَکُمْ، وَکُنْتُمْ خَیْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِ إِلاَّ مَنْ عَمِلَ مَثْلَہٗ؟ تُسبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُکَبِّرُونَ، خَلْفَ کُلِّ صَلاَۃٍ ثَلاَثاً [1] سنن ابن ماجہ: ۴۱۲۴۔ صحیح الجامع: ۷۹۷۳.