کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 212
لوگ توجہ نہیں کرتے، لیکن کیا ان کا حق نہیں ہے کہ ان کے پاس دِین پہنچے؟ اگر کوئی مانگنے آئے اور وہ مفلس و نادار ہو، تو اس کی حسبِ استطاعت مدد کی جائے، اس کو کھانا کھلایا جائے، اس کو غسل کروا دیا جائے، اگر گنجائش ہو تو اس کو کپڑے پہنا دیے جائیں، اس کے ساتھ ساتھ اس کو پیار سے سمجھایا جائے کہ جتنا تم پاک صاف رہو گے اور نماز پڑھو گے اتنا ہی اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو گا اور تمہاری معاشی تنگیوں کو دُور فرما دے گا، نیز اس کو مسنون اذکار بتلائے جائیں کہ تم یہ اذکار پڑھو، اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے حالات سنوار دے گا اور تم دنیا و آخرت؛ دونوں جہانوں میں سرخرو ہو گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غرباء و فقراء کا باقاعدہ خیال رکھا کرتے تھے اور انہیں نیک اعمال کی ترغیب دیا کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم صفہ میں موجود تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ((أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنْ یَغْدُوَ إِلٰی بُطْحَانَ أوِ الْعَقِیقِ فَیَأْتِیَ کُلَّ یَوْمٍ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَاوَیْنِ)) ’’تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ بطحان یا عقیق وادی میں جائے اور وہاں سے روزانہ موٹی تازی خوبصورت اونچے کوہان والی دو اونٹنیاں لے آئے اور کسی گناہ یا قطع رحمی کا مرتکب بھی نہ ہو؟‘‘ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ہم میں سے ہر کوئی پسند کرے گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَلَأَنْ یَغْدُوَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَیَتَعَلَّمَ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ نَاقَتَیْنِ، وَثَلَاثٌ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِہِنَّ مِنَ الْإِبِلِ))[1] ’’تم میں سے کوئی مسجد میں جائے اور قرآن کریم کی دو آیتیں سیکھ لے تو یہ اس [1] صحیح مسلم: ۸۰۳۔ سنن أبی داود: ۱۴۵۶۔ صحیح الجامع: ۲۶۹۷.