کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 210
أَفْعَلْہُ: ((أَلَا فَعَلْتَ کَذَا؟))[1] ’’میں نے دس سال رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی بھی اُف تک نہیں کہا، اور نہ توکسی ایسے کام پہ کہ جومیں نے کیاہویہ کہاکہ تم نے یہ کیوں کیا؟ اورنہ ہی کسی ایسے کام پہ کہ جومیں نہ کرسکاہوایہ کہاکہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟‘‘ اسی طرح اگر مالکان کی طرف سے ملازمین کا حق دبا لیا جاتا ہے اور انہیں ان کی اُجرت نہیں دی جاتی، یا بلاوجہ تاخیر سے دی جاتی ہے تو ان کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنایا جائے کہ: ((أَعْطُوا الْأَجِیْرَ أَجْرَہٗ قَبْلَ أَنْ یَّجُفَّ عَرْقُہٗ))[2] ’’مزدور کواس کاپسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی اس کی اجرت دے دو۔‘‘ گویا کہ ہر لحاظ سے فیکٹری اور لیبرکالونی دعوتِ دین کے لیے ایک وسیع و عریض میدان ہے، لہٰذا جو داعی فیکٹری وغیرہ میں کام کرتا ہو وہ اپنا کام کرنے کے ساتھ ساتھ دین کی اس طریقے سے خدمت بھی کر سکتا ہے۔ تاجروں کی تربیت ودعوت کا میدان تاجر برادری اگر صوم و صلوٰۃ کی پابند ہو، سچ بولنے والی ہو، عدل و انصاف کی پیکر ہو، نرمی، دیانت داری اور حلال ذرائع سے تجارت کرنے والی ہو تو یہ دنیا کی اچھائی پانے کے ساتھ ساتھ آخرت کی اچھائی بھی حاصل کریں گے، اور حقیقت یہ ہے کہ علم اور مال ہی دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن کے متعلق رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشک کیا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا حَسَدَ إِلاَّ فِی اثْنَتَینِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرآن فَہُوَ یَتْلُوہُ آنَائَ اللَّیلِ وَآنَائَ النَّہَارِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَہُوَ یُنْفِقہٗ آنائَ اللَّیلِ [1] صحیح البخاری: ۶۰۳۸۔ صحیح مسلم: ۲۳۰۹. [2] سنن ابن ماجہ: ۲۴۴۳۔ صحیح الجامع: ۱۰۵۵.