کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 206
طرح آگ کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔‘‘ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: مَرَّ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم بِامْرَأَۃٍ تَبْکِی عِنْدَ قَبْرٍ، فَقَالَ: ((اتَّقِی اللّٰہَ وَاصْبِرِی)) قَالَتْ: إِلَیْکَ عَنِّی، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِیبَتِی وَلَمْ تَعْرِفْہُ، فَقِیلَ لَہَا: إِنَّہُ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم ، فَأَتَتْ بَابَ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَہُ بَوَّابِینَ، فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْکَ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الأُولٰی)) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔ اس نے کہا: مجھ سے دُور رہو، تمہیں مجھ جیسی مصیبت نہیں پہنچی۔ وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی۔ جب اسے بتلایا گیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو وہ (معذرت کے لیے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی۔ اس نے آپ کے دروازے پر کوئی دربان نہ دیکھا، حاضر ہو کر عرض کرنے لگی: میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر تو صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے۔‘‘ 12… سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر تربیت و دعوت کا میدان آج کل اپنا پیغام ساری دنیا تک پہنچانے کے لیے آسان اور مؤثر ذریعہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صرف فیس بک پر ہی کروڑوں لوگ اپنے اپنے نظریات، عقائد، سوچ و فکر اور تاثرات دوسروں تک بآسانی پہنچا رہے ہیں جبکہ ان میں سے بہت سے لوگ غیرحقیقی اور جھوٹ پر مبنی باتوں کی نشر و اشاعت بھی کر رہے ہوتے ہیں، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشینگوئی پوری ہو رہی ہے کہ: [1] صحیح البخاری: ۱۲۸۳.