کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 200
اناج کے اوپر کیوں نہ رکھا؟ تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔ جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں۔‘‘ اسی طرح صحابی رسول سیدنامیثم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ((أَنَّ الْمَلَکَ یَغْدُو بِرَایَتِہٖ مَعَ أَوَّلِ مَنْ یَغْدُو إِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا یَزَالُ بِہَا مَعَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ یَدْخُلُ بِہَا مَنْزِلَہُ وَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَغْدُو مَعَ أَوَّلِ مَنْ یَغْدُو بِرَایَتِہٖ إِلَی السُّوقِ فَلَا یَزَالُ بِہَا حَتّٰی یَرْجِعَ فَیُدْخِلَہَا مَنْزِلَہُ۔))[1] ’’بلاشبہ فرشتہ اپنا جھنڈا اُٹھائے سب سے پہلے مسجد جانے والے کے ہمراہ جاتا ہے اور اس کے واپس گھرآنے تک اس کے ساتھ رہتا ہے،واپسی پراس کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہوجاتا ہے، اور بلا شبہ سب سے پہلے بازار جانے والے کے ہمراہ شیطان اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے جھنڈے سمیت اس کے واپس آنے تک اس کے ساتھ رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے جھنڈے کو اس کے گھر میں داخل کر دیتا ہے۔‘‘ اشعث بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک آدمی کو یہ بیان کرتے سنا کہ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِی سُوقِ عُکَاظٍ یَقُولُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ، قُولُوا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوا))، وَرَجُلٌ یَتْبَعُہٗ یَقُولُ: إِنَّ ہٰذَا یُرِیدُ أَنْ یَصُدَّکُمْ عَنْ آلِہَتِکُمْ، فَإِذَا النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم وَأَبُو جَہْلٍ۔[2] ’’میں نے عکاظ کے بازار میں ایک آدمی کو یہ کہتے سنا کہ اے لوگو! لااِلٰہ اِلااللہ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ ایک آدمی ان کے پیچھے پیچھے یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں سے روکنا چاہتا ہے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور [1] صحیح الترغیب والترھیب: ۴۲۲. [2] مسند أحمد: ۲۳۱۵۱.