کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 198
میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَإِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی العِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوہُ وَلاَ یُشْرِکُوا بِہٖ شَیْئًا، وَحَقَّ العِبَادِ عَلَی اللّٰہِ أَنْ لاَ یُعَذِّبَ مَنْ لاَ یُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا)) [1] ’’بلاشبہ اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں رواں دواں تھے کہ ایک آدمی نے اونٹنی پر لعنت کر دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس اونٹنی کا مالک کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَخِّرْہَا فَقَدْ أُجِبْتَ فِیہَا)) [2] ’’اس کو پیچھے لے جاؤ، کیونکہ اس کے بارے میں تمہاری لعنت قبول کر لی گئی ہے۔‘‘ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ایک آدمی اپنی اونٹنی پر آیا اور اسے دائیں بائیں گھمانے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ کَانَ عِنْدَہٗ فَضْلُ ظَہْرٍ، فَلْیَعُدْ بِہٖ عَلٰی مَنْ لَا ظَہْرَ لَہٗ، وَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ فَضْلُ زَادٍ، فَلْیَعُدْ بِہٖ عَلٰی مَنْ لَا زَادَ لَہٗ))[3] ’’جس شخص کے پاس کوئی زائد سواری ہو وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس کھانے پینے کی کوئی زائد چیز ہے وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۲۸۵۶. [2] مسند أحمد: ۹۵۲۲. [3] سنن أبی داود: ۱۶۶۳.