کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 194
بِالنَّصَارٰی، فَإِنَّ تَسْلِیمَ الیَہُودِ الإِشَارَۃُ بِالأَصَابِعِ، وَتَسْلِیمَ النَّصَارٰی الإِشَارَۃُ بِالأَکُفِّ)) [1] ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے علاوہ دوسروں (یعنی غیرمسلموں) کی مشابہت اختیار کرتا ہے، تم یہود و نصارٰی کی مشابہت مت اختیار کیا کرو، کیونکہ یہودیوں کا سلام کرنے کا انداز انگلیوں سے اشارہ کرنا ہے اور عیسائیوں کا ہتھیلیوں سے اشارہ کرنا۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ بِسُنَّۃِ غَیرِنَا)) [2] ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے ہمارے غیر کے طریقے پر عمل کیا۔‘‘ اگر آپ کسی نوجوان کو دیکھتے ہیں کہ اس نے داڑھی منڈوائی ہوئی ہے یا داڑھی کا ڈیزائن بنوایا ہوا ہے تو اسے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ سمجھائیں کہ پیارے بھائی یہ انداز غیرمسلموں کا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، پھر اسے یہ حدیثِ مبارکہ سنائیں کہ: ((خَالِفُوا المُشْرِکِینَ، وَفِّرُوا اللِّحٰی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ)) [3] ’’مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کٹواؤ۔‘‘ اسی طرح اگر آپ دیکھیں کہ کسی نے بالوں کا ایسا سٹائل بنایا ہوا ہے کہ جس میں سر کے کچھ بال مونڈے ہوئے ہیں اور کچھ کو باقی رکھا گیا ہے، تو اسے بڑی محبت کے ساتھ بتلائیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم نَہٰی عَنِ الْقَزَعِ۔[4] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا۔‘‘ [1] صحیح الجامع: ۵۴۳۴۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۱۹۴. [2] صحیح الجامع: ۵۴۳۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۱۹۴. [3] صحیح البخاری: ۵۸۹۲۔ صحیح البخاری: ۲۵۹. [4] مسند احمد: 5356.