کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 193
دین کی تبلیغ اور تعلیم کی ذِمہ داری عائد ہوتی ہے اور بحیثیت مسلمان اس فریضے کی ادائیگی ہر شخص پر لازم ہے۔ صرف دنیوی تعلیم حاصل کر لینا اور دِینی تعلیم سے بے رغبتی اختیار کرنا رب تعالیٰ کی نفرت کا باعث بن سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ یُبْغِضُ کُلَّ عَالِمٍ بِالدُّنْیَا جَاہِلٍ بِالآخِرَۃِ)) [1] ’’یقینا اللہ تعالیٰ ہر اس شخص سے نفرت کرتا ہے جو دنیا کا علم تو رکھتا ہو (لیکن) آخرت کے بارے میں جاہل ہو۔‘‘ لہٰذا ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ دین کی بنیادی تعلیم ضرور حاصل کرے اور پھر اس کی آگے تعلیم بھی دے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اس کی تبلیغ و ترویج بھی کرے۔ 6… نیو جنریشن (نئی نسل) کی تربیت و دعوت کا میدان آج کی نیو جنریشن (نئی نسل) میں بہت سی شرعی و اخلاقی کوتاہیاں صرف اس بناء پر پائی جاتی ہیں کہ انہیں کوئی صحیح طور پر بتلاتا ہی نہیں ہے کہ وہ جو کام کر رہے ہیں ان کے متعلق ہمارا دِین کیا حکم دیتا ہے۔ یہ مشاہدے کی بات ہے کہ اگر انہیں صحیح طور پر راہنمائی دی جائے اور انہیں دینی احکام کے ذریعے گائیڈ کیا جائے تو وہ بات کو قبول کرنے اور اپنا عمل درست کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ضرورت صرف اس اَمر کی ہے کہ انہیں ان کی ذہنی سطح پر آکر سمجھایا جائے اور ایسے انداز سے نصیحت کی جائے جس سے انہیں اپنائیت کا احساس ہو، نہ کہ انہیں سخت لفظوں سے ایسی تنبیہ کی جائے کہ وہ بیزار ہی ہو جائیں۔ مثال کے طور پر اگر ان میں کوئی ایسی عادات و اطوار پائی جاتی ہیں کہ جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے تو انہیں بڑی محبت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سناتے ہوئے نصیحت کی جائے: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِغَیْرِنَا، لَا تَشَبَّہُوا بِالیَہُودِ وَلَا [1] صحیح الجامع: ۲۳۲۸.