کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 191
4 … مساجدمیں تربیت و دعوت کا میدان دین کی تعلیم و تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح و تربیت کے لیے جس قدر مؤثر اور عمدہ میدان مساجد ہیں، اتنا کوئی اور نہیں۔ مساجد میں انفرادی طور پر لوگوں کو دین کی دعوت دی جائے، دروس کروائے جائیں، حلقات قائم کیے جائیں، خطبات و مواعظ کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی جائے۔ اسی طرح ترجمہ و تفسیر اور حدیث و فقہ کی کلاسیں لگائی جا سکتی ہیں۔ قرآن سکھانے، تجوید کے ساتھ پڑھنے اور سمجھنے کے لیے مختصر کورسز کروائے جا سکتے ہیں۔ ان تمام صورتوں کی فضیلت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمائی ہے: ((مَنْ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ لَا یُرِیدُ إِلَّا أَنْ یَتَعَلَّمَ خَیْرًا أَوْ یُعَلِّمُہٗ، کَانَ لَہٗ کَأَجْرِ حَاجٍّ تَامًّا حَجَّتُہٗ))[1] ’’جو شخص مسجدمیں صرف اس ارادے سے جائے کہ وہ خیروبھلائی کی کوئی بات سیکھے یاسکھائے گاتواسے کامل حج کرنے والے حاجی کے ثواب کے مثل اجر و ثواب ملے گا۔‘‘ 5 … تعلیمی اد اروں میں تربیت و دعوت کا میدان تعلیمی اداروں میں دین کی دعوت بہت ہی مؤثر انداز میں دی جا سکتی ہے۔ اگر آپ معلم ہیں تو آپ میٹھی زبان، عمدہ نصیحت اور اچھے اندازِ گفتگو کے ساتھ اپنے سٹوڈنٹس کی تربیت کر سکتے ہیں۔ اپنے روزمرہ کے سبق میں سے کوئی صورت ایسی نکال لی جائے جو بچوں کی تربیت سے متعلقہ ہو یا کسی طالب علم میں اگر کوئی دِینی یا اخلاقی کوتاہی دکھائی دے تو اس کا نام لیے بغیر عمومی اندازِ تخاطب کے ساتھ اصلاح کر دی جائے۔ اصل تعلیم یہی ہے اور اسی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِگرامی ہے کہ: ((مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَہٗ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہٖ، لَا یُنْقَصُ مِنْ أَجْرِ [1] المعجم الکبیر للطبرانی: ۷۴۷۳۔ صحیح الترغیب والترھیب: ۸۶.