کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 190
ابوطالب! کیا عبدالمطلب کے مذہب سے رُوگردانی کر رہے ہو؟ وہ بار بار اسے یہی کہتے رہے، حتیٰ کہ ابوطالب نے آخری بات ان سے یہی کہی کہ وہ عبدالمطلب کی ملت پر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کے لیے اللہ سے استغفار ضرور کروں گا، جب تک مجھے روکا نہ جائے گا۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہو گئی: ’’نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اہلِ ایمان کے لائق نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، اگرچہ وہ قریبی ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔‘‘ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: ’’بے شک آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ پسند کریں۔‘‘ اسی طرح دیگر قریبی رشتے داروں کو جہنم اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈراتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نیک اعمال کے اہتمام کی تاکید کی اور فرمایا: ((یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ، یَا بَنِی عَبْدِ المُطَّلِبِ اشْتَرُوا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ، یَا أُمَّ الزُّبَیْرِ بْنِ العَوَّامِ عَمَّۃَ رَسُولِ اللّٰہِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، اشْتَرِیَا أَنْفُسَکُمَا مِنَ اللّٰہِ لاَ أَمْلِکُ لَکُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلاَنِی مِنْ مَالِی مَا شِئْتُمَا)) [1] ’’اے بنی عبد مناف! اپنے آپ کو اللہ (کے عذاب) سے چھڑا لو۔ اے بنی عبدالمطلب! تم بھی اپنے آپ کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لو۔ اے اُمِ زبیر بن عوام! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت محمد! تم دونوں بھی اپنے آپ کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لو، میں تمہارے کام نہیں آ سکوں گا، تم (یہاں دنیا میں) میرے مال سے جتنا چاہو مانگ سکتی ہو (لیکن آخرت میں صرف اپنے اعمال ہی کام آئیں گے)۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۳۵۲۷.