کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 189
کا پیکر بنایا جائے اور جو دِین دار ہوں انہیں دِین کی دعوت دیگر لوگوں تک پہنچانے کی ترغیب دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی حکم فرمایا تھا کہ: ﴿ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴾ [الشعراء: ۲۱۴] ’’اور اپنے قریبی ترین رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرائیے۔‘‘ لہٰذا آپ نے سب سے پہلے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور انہیں دین کی دعوت دی اور اس کے بعد دوسرے لوگوں کی اصلاح کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ آپ نے اپنے چچا ابوطالب کو آخری وقت میں بھی دین کی دعوت دی، جیسا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ: أَنَّ أَبَا طَالِبٍ لَمَّا حَضَرَتْہُ الوَفَاۃُ، دَخَلَ عَلَیْہِ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم وَعِنْدَہٗ أَبُو جَہْلٍ، فَقَالَ: ((أَیْ عَمِّ، قُلْ لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، کَلِمَۃً أُحَاجُّ لَکَ بِہَا عِنْدَ اللّٰہِ)) فَقَالَ أَبُو جَہْلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ: یَا أَبَا طَالِبٍ، تَرْغَبُ عَنْ مِلَّۃِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَلَمْ یَزَالاَ یُکَلِّمَانِہٖ، حَتّٰی قَالَ آخِرَ شَیْئٍ کَلَّمَہُمْ بِہٖ: عَلٰی مِلَّۃِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم : ((لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ، مَا لَمْ أُنْہَ عَنْہُ)) فَنَزَلَتْ: ﴿ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴾ [التوبۃ: ۱۱۳] وَنَزَلَتْ: ﴿ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ ﴾ [القصص: ۵۶][1] ’’جب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اس وقت ابوجہل بھی اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا! ایک بار ’’لااِلٰہ اِلااللہ‘‘ کہہ دو، میں اس وجہ سے اللہ کے ہاں تمہارے لیے حجت قائم کر سکوں گا۔ یہ سن کر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بولے: اے [1] صحیح البخاری: ۳۸۸۴.