کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 188
اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّۃَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَنْفَعُوکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَنْفَعُوکَ إِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلٰی أَنْ یَضُرُّوکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَضُرُّوکَ إِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ، رُفِعَتِ الأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ)) [1] ’’اے لڑکے! میں تجھے کچھ باتوں کی تعلیم دیتا ہوں: اللہ کو یاد رکھ؛ وہ تجھے یاد رکھے گا، اللہ کو یاد رکھ؛ تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تُو مانگے اللہ تعالیٰ سے مانگ، جب تُو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر (ساری) اُمت تجھے کسی چیز سے فائدہ پہنچانے پر اکٹھی ہو جائے تو وہ تجھے صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکے گی جتنا فائدہ اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں لکھ دیا ہے اور وہ سارے تجھے کسی چیز سے نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو وہ تجھے صرف اتنا ہی نقصان پہنچا سکیں گے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں لکھا ہے۔ قلمیں اُٹھا لی گئی ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں (یعنی سب لوگوں کی جو جو قسمت ہے، وہ لکھی جا چکی ہے)۔‘‘ 3 … خاندان کی تربیت و دعوت کا میدان دعوت کا بہت بڑا میدان ہر داعی کا اپنا خاندان ہے۔ اپنی اور اپنے گھر والوں کی تربیت کے بعد تیسرا اور ضروری میدانِ دعوت آدمی کا اپنا خاندان ہے۔ خاندان کے جو لوگ فرائض میں کوتاہی کرتے ہوں انہیں فرائض کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے، جو کسی حرام اور غیرشرعی امور کا ارتکاب کرتے ہوں انہیں ایسے کاموں سے بچایا جائے اور اس بارے میں شرعی وعید سنا کر عذاب و عقاب سے ڈرایا جائے، جن میں اخلاقی کوتاہی ہو انہیں احسن انداز سے حسنِ اخلاق [1] سنن الترمذی: ۲۵۱۶۔ صحیح الجامع: ۷۹۵۷.