کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 187
’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بھی اسبابِ جماع کی قدرت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیے، کیونکہ یہ نظر کے جھکاؤ کے لیے زیادہ مؤثر اور شرمگاہ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو شادی کی طاقت نہ رکھے تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ اس کے لیے شہوت ختم کرنے کا باعث ہے۔‘‘ ٭…سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ شَبَابِ قُرَیْشٍ، احْفَظُوا فُرُوجَکُمْ، أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَہٗ فَلَہُ الْجَنَّۃُ)) [1] ’’اے نوجوانانِ قریش کی جماعت! اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، خبردار! جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی، اس کے لیے جنت (کا انعام) ہے۔‘‘ بچوں کی تربیت و دعوت کا میدان ٭…سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور صغر سنی (چھوٹی عمر)کی وجہ سے میرا ہاتھ پیالے میں گھومتا تھا (یعنی میں پیالے کی ہر جانب سے کھا رہا تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ((یَا غُلَامُ سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ وَکُلْ مِمَّایَلِیْکَ))، فَمَا زَالَتْ تِلْکَ طِعْمَتِیْ بَعْدُ۔[2] ’’اے بچے! اللہ کا نا م لے کر دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔‘‘ اس کے بعد میں ہمیشہ سے ان ہی آداب کے مطابق کھانا کھاتا ہوں۔ ٭…سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا غُلَامُ إِنِّی أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ، احْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ، احْفَظِ [1] المعجم الأوسط للطبرانی: ۶۸۵۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۶۹۶. [2] صحیح البخاری: ۵۳۷۶۔ صحیح مسلم: ۲۰۲۲.