کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 184
سوال کیاجائے گا اورعورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دارہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔‘‘ یعنی اگر بیوی بچوں میں کوئی شرعی کوتاہی اس بناء پر ہوئی کہ گھر کے سربراہ نے ان کی دِینی و اخلاقی تربیت ہی نہیں کی تھی، تو ان کا وبال اس پر بھی آئے گا، لہٰذا اس میدانِ دعوت کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے اور باہر کے میدان میں دعوت کے لیے نکلنے سے پہلے گھر کے میدان میں وقت لگانا چاہیے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً گھر والوں کو تبلیغ کرتے ہی رہتے تھے، جیسا کہ سیدہ اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار ہوئے تو فرمایا: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الفِتَنِ، وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الخَزَائِنِ، أَیْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الحُجَرِ، فَرُبَّ کَاسِیَۃٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَۃٍ فِی الآخِرَۃِ)) [1] ’’سبحان اللہ! آج رات کتنے فتنے نازل کیے گئے اور کتنے خزانے کھولے گئے۔ ان حجروں میں سونے والیوں کو جگاؤ، کیونکہ دنیا میں کپڑے پہننے والی بہت سی ایسی عورتیں ہوں گی جو آخرت میں برہنہ ہوں گی۔‘‘ جو شخص اپنی اہلیہ کی دِینی تربیت کرتا ہے یا جو عورت اپنے خاوند کو دِین کی راہ پر چلاتی ہے تو اس کی فضیلت یوں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلّٰی، ثُمَّ أَیْقَظَ امْرَأَتَہٗ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِی وَجْہِہَا الْمَاءَ، وَرَحِمَ اللّٰہُ امْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ، ثُمَّ أَیْقَظَتْ زَوْجَہَا فَصَلّٰی، فَإِنْ أَبٰی نَضَحَتْ فِی وَجْہِہِ الْمَاءَ)) [2] ’’اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جس نے رات کو کھڑے ہو کر نماز پڑھی، پھر [1] صحیح البخاری: ۱۱۵. [2] سنن النسائی: ۱۶۱۰۔ سنن أبی داود: ۱۳۰۸۔ سنن ابن ماجہ: ۱۳۳۶.