کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 183
آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَفَلَا أَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا)) [1] ’’کیا میں (اللہ کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟‘‘ 2 … گھریلو افراد کی تربیت و دعوت کا میدان انسان پر اپنی ذات کی تربیت کے بعد سب سے اوّلیں ذِمہ داری اپنے گھر والوں کی اصلاح و تربیت کی عائد ہوتی ہے، کیونکہ وہ روزِقیامت ان کے بارے میں جوابدہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس کا تاکیدی حکم فرمایا ہے: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ﴾ [التحریم : ۶] ’’اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اپنے آپ کو اوراپنے اہل وعیال کواس آگ سے بچالوجس کا ایندھن لوگ اورپتھر ہیں‘ اس آگ پرسخت دل اوربہت مضبوط فرشتے مقرّرہیں‘ جواللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جووہ انہیں حکم دے‘ اورجس کام کا انہیں حکم دیا جاتا ہے اسے وہ فوراًبجالاتے ہیں۔‘‘ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلرَّجُلُ رَاعٍ فِی أَہْلِہٖ وَہُوَ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، وَالمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا وَمَسْؤلَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا)) [2] ’’آدمی اپنے گھروالوں کاذمہ دار ہے اوراس کی ذمہ داری کے متعلق اس سے [1] صحیح البخاری: ۴۸۳۷۔ صحیح مسلم: ۷۰۵۷. [2] صحیح البخاری: ۸۹۳۔ صحیح مسلم: ۱۸۲۹.