کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 182
تربیت اور دعوت کے میادین اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لیے معاشرے کے اندربہت سارے میدان موجود ہیں، جن میں مندرجہ ذیل اہم ہیں: 1 … ذاتی تربیت و دعوت کا میدان سب سے پہلا میدان تو انسان کی اپنی ذات ہے، یعنی سب سے پہلے خود کو دین پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دی جائے اور اپنے آپ کو ہی اسلامی احکام کی تبلیغ کی جائے۔ جب تک انسان کی اپنی اصلاح اور تربیت نہیں ہو گی تب تک وہ دوسروں کو مؤثر دعوت نہیں دے سکتا، کیونکہ بات میں تاثیر تب ہی پیدا ہوتی ہے جب قول کے ساتھ ساتھ عمل بھی شامل ہو جاتا ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قُمْتَ فِی صَلَاتِکَ فَصَلِّ صَلَاۃَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَکَلَّمْ بِکَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْہُ، وَأَجْمِعِ الْیَأْسَ عَمَّا فِی أَیْدِی النَّاسِ)) [1] ’’جب تم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو تو اس طرح نماز پڑھو جیسے تم دنیا سے رخصت ہونے والے ہو اور ایسی کوئی بات نہ کرو جس سے (بعد میں) معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس سے پوری طرح مایوس ہو جاؤ۔‘‘ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس قدر قیام کیا کرتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک سُوج جاتے تھے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! [1] صحیح الجامع: ۷۴۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۰۱.