کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 177
اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا: ((إنَّک سَتَأْتِی قَوْماً أَہْلَ کِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَہُمْ فَادْعُہُمْ إلٰی أَنْ یَشْہَدُوا أَنْ لا إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰہِ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوا لَکَ بِذَالِکَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوا لَک بِذَالِکَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِہِمْ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوا لَک بِذَالِکَ فَإِیَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِہِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّہٗ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ)) [1] ’’یقینا تُوایسے لوگوں کے پاس جا رہا ہے جو اہلِ کتاب ہیں، لہٰذاجب توان کے پاس جائے توانہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اﷲ کے سواکوئی معبودنہیں ہے اور بلاشبہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اﷲ کے رسول ہیں، سواگروہ تیری یہ بات مان لیں توانہیں بتلانا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر ہرروزوشب میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، پھراگروہ اس بات میں بھی تیری اطاعت کریں توپھر انہیں بتلانا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پرزکاۃ فرض کی ہے، جوان کے مالدارلوگوں سے وصول کی جائے گی اوران کے غریب لوگوں کودے دی جائے گی، پھراگروہ تیری اس بات کوبھی قبول کرلیتے ہیں تو تُو ان کے عمدہ مالوں سے خودکوبچانا اور مظلوم کی بددعاسے بچنا، کیونکہ اس کے اوراﷲ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ((إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ أَہْلِ کِتَابٍ، فَلْیَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَیْہِ [1] صحیح البخاری: ۴۳۴۷۔ صحیح مسلم: ۱۹.