کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 176
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہ کر قتال کرتا رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا۔‘‘ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((أُرِیتُکِ فِی المَنَامِ مَرَّتَیْنِ، أَرٰی أَنَّکِ فِی سَرَقَۃٍ مِنْ حَرِیرٍ، وَیَقُولُ: ہٰذِہِ امْرَأَتُکَ، فَاکْشِفْ عَنْہَا، فَإِذَا ہِیَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ یَکُ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ یُمْضِہٖ))[1] ’’میں نے تجھے خواب میں دوبار دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ تم ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں ہو اور ایک شخص مجھ سے کہتا ہے: یہ آپ کی اہلیہ ہیں۔ جب میں نے اس سے کپڑا ہٹایا تو تمہیں دیکھا۔ میں نے کہا: اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔‘‘ معلوم ہوا کہ جن چیزوں کو لوگ سائنس کی ایجادات کہتے ہیں، درحقیقت چودہ سو سال پہلے ہی ان کی شکل موجود تھی، بس اس کو جدید کر دیا گیا ہے۔ ہم مسلمان اس بارے میں تذبذب کا شکار کیوں ہیں؟ ہمیں تو ان سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے اور انہیں دعوتِ دین کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ 10. دُعاۃ اور کاروانِ دعوت روانہ کرنا: تمام اسالیب سے زیادہ مؤثر انسان کی شخصی دعوت ہوتی ہے کہ کوئی کسی کے پاس چل کر جائے اور اسے دِین کی دعوت دے۔ اس کے لیے دُعاۃ اور کاروانِ دعوت کو بھیجا جاتا ہے جو مختلف علاقوں اور مختلف قسم کے لوگوں کے پاس جا کر انہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بتاتے ہیں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دین کی تعلیم و تبلیغ کے لیے صحابہ کو بھیجا کرتے تھے، جیسا کہ جناب عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول [1] صحیح البخاری: ۳۸۹۵.