کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 172
چنانچہ میں رُک گیا۔ یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: تم لکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (منہ) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کو خط لکھا تھا کہ: اُنْظُرْ مَا کَانَ مِنْ حَدِیثِ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَاکْتُبْہُ، فَإِنِّی خِفْتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَہَابَ العُلَمَائِ۔[1] ’’دیکھو! جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں انہیں لکھ لو، اس لیے کہ مجھے علم مٹ جانے اور علماء کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘ 7.سوشل میڈیا: آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں دعوتِ دین کے لیے یہ میدان بہت مؤثر اور بہتر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تین ارب لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، ساڑھے سات سو ملین ویب سائٹس موجود ہیں، اسی طرح یوٹیوب پر پچھتّر لاکھ ویڈیوز موجود ہیں اور روزانہ چار ارب لوگ اس کو وِزٹ کرتے ہیں۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس قدر زیادہ تعداد میں ویب سائٹس اور پھر ان کے یوزرز کی اتنی کثیر تعداد، اور یوٹیوب کا ایک وسیع و عریض نیٹ ورک اور بے پناہ وِزیٹرز۔ اگر اس میدان کے ماہرین اس کو دعوتِ دین کے لیے منتخب کر لیں تو وہ دین کی بے پناہ خدمت انجام دے سکتے ہیں اور آج کے دور میں دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اس میدان کو اپنانا اور کور کرنا بھی نہایت ضروری ہے اور اس کے تمام میادِین کو بروئے کار لانا چاہیے، یعنی موبائل میسجز کے ذریعے دین کی تبلیغ کی جا سکتی ہے، واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے دِینی آڈیوز، ویڈیوز اور لٹریچرز دوسروں کو بھیجے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ اگر ممکن ہو سکے تو میڈیا چینلز، ریڈیو اور کیبلزکے ذریعے بھی دین کی دعوت کو لاکھوں، کروڑوں لوگوں [1] صحیح البخاری: ۱۰۰.