کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 171
سے اٹھائے کہ وہ اعلان وغیرہ کر کے یہ چیز اس کے مالک کو پہنچانے کی کوشش کرے گا) اور جس کا کوئی شخص قتل کر دیاجائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے: یا دِیت وصول کرلے یا اسے قصاص میں قتل کر دے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اِذخر (بوٹی) کو مستثنیٰ فرما دیں (یعنی اسے کاٹنے کی اجازت دے دیں) کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے) فرمایا: سوائے اِذخر کے۔ (یعنی حرم کی حدود میں اسے کاٹنے کی اجازت ہے) ایک یمنی شخص ابوشاہ کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھوا دیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوشاہ کو لکھ دو۔‘‘ ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ابوشاہ کے یہ کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اے اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھوا دیں۔ تو انہوں نے فرمایا: وہ خطبہ جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کُنْتُ أَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ أَسْمَعُہٗ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، أُرِیدُ حِفْظَہٗ، فَنَہَتْنِی قُرَیْشٌ عَنْ ذَالِکَ، وَقَالُوا: تَکْتُبُ وَرَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَقُولُ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، فَأَمْسَکْتُ، حَتّٰی ذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، فَقَالَ: ((اکْتُبْ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ، مَا خَرَجَ مِنْہُ إِلَّا حَقٌّ)) [1] ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی چیز سنتا تھا اسے لکھ لیا کرتا تھا۔ میں اسے یاد کرنا چاہتا تھا۔ تو قریش نے مجھے اس سے منع کر دیا اور کہنے لگے: تو لکھتا رہتا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) غصے میں اور (کبھی) خوشی میں بولتے ہیں۔ [1] مسند أحمد: ۶۸۰۲۔ سنن الدارمی: ۵۰۱.