کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 169
عَلَیْکُمْ، أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ: فَإِنِّی نَذِیرٌ لَکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیدٍ، فَقَالَ أَبُو لَہَبٍ: تَبًّا لَکَ سَائِرَ الیَوْمِ، أَلِہٰذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (1) مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ﴾ [المسد: ۲][1] جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’اپنے قریب ترین رشتے داروں کو (عذابِ الٰہی سے) ڈرائیں۔‘‘ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور آواز دینے لگے: ’’اے بنو فہر! اے بنوعدی!‘‘ اور دیگر قبائلِ قریش کو پکارنے لگے، حتیٰ کہ وہ سب جمع ہو گئے۔ اگر کوئی خود نہیں آ سکتا تھا تو اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ وہ معلوم کرے کہ کیا بات ہے؟ ابولہب خود آیا اور قریش کے دوسرے لوگ بھی آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبردار کروں کہ اس گھاٹی میں ایک لشکر ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کو سچ مان لو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا ہی پایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر سنو! میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے ہے۔‘‘ یہ سن کر ابولہب بولا: تجھ پر سارا دِن تباہی نازل ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی: ’’ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو جائیں اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کا مال اس کے کام نہ آیا اور نہ ہی اس کی کمائی نے اسے کوئی فائدہ دیا۔‘‘ 6. تحریر کے ذریعے: اگر آپ میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہے، آپ اپنی تحریر کے ذریعے دین کی بات کو عمدہ انداز میں سمجھا سکتے ہیں اور لوگوں تک اچھے طریقے سے پہنچا سکتے ہیں تو اس میدان کو اختیار کیجیے اور تصنیف، تالیف، پمفلٹ، لی فلیٹ اور بروشرز کے ذریعے لوگوں تک دین کا پیغام [1] صحیح البخاری: ۴۷۷۰.