کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 168
سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ خَطِیبًا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلٰی مَغْرِبَانِ الشَّمْسِ حَفِظَہَا مَنْ حَفِظَہَا، وَنَسِیَہَا مَنْ نَسِیَہَا، وَأَخْبَرَ فِیہَا بِمَا ہُوَ کَائِنٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیہَا، فَنَاظِرٌ کَیْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ)) [1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصرکی نماز پڑھائی، پھر غروبِ آفتاب تک ہمیں خطاب فرمایا۔ جس نے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا، سو بھول گیا۔ آپ نے اس دوران قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ کی خبر دی۔اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد آپ نے فرمایا: دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنائے گااور دیکھے گا کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔خبردار!دنیاسے بچو اور عورتوں سے بچو۔‘‘ 5. تقریر کے ذریعے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴾ [الشعراء: ۲۱۴] صَعِدَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم عَلَی الصَّفَا، فَجَعَلَ یُنَادِی: یَا بَنِی فِہْرٍ، یَا بَنِی عَدِیٍّ ۔ لِبُطُونِ قُرَیْشٍ ۔ حَتَّی اجْتَمَعُوا فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُولًا لِیَنْظُرَ مَا ہُوَ، فَجَائَ أَبُو لَہَبٍ وَقُرَیْشٌ، فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَیْلًا بِالوَادِی تُرِیدُ أَنْ تُغِیرَ [1] سنن الترمذی: ۲۱۹۱۔ المستدرک للحاکم: ۸۵۴۳۔ صحیح الترغیب والترھیب: ۲۷۵۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:۱۶۸.