کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 167
غَرَبَتِ الشَّمسُ، فَأَخبَرَنَا بِمَا کَانَ وَبِمَا ہُوَ کَائِنٌ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا، یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر) سے اُترے، ہمیں نماز پڑھائی، پھر دوبارہ منبر پر تشریف فرما ہو گئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ پھر آپ اُترے، نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس خطبے میں) ہمیں وہ سب کچھ بتلا دیا جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا۔‘‘ آج اگر کوئی اتنا لمبا درس اور وعظ نہیں بھی سنتا تو کوئی بات نہیں، آپ دین کی بات بتانے کے لیے کچھ وقت طے کر لیں، خواہ تھوڑا سا ہی ہو، آپ معمول بنا لیں کہ میں آفس جاتا ہوں تو میں نے وہاں دو منٹ دِین کی بات کرنی ہے اور ان دو منٹوں میں اللہ کا پیغام اپنے ساتھیوں کو دینا ہے۔ کسی کی اصلاح کے لیے اتنا وقت بھی کافی ہے۔ 4.خطاب اورخطبہ جمعہ کے ذریعے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ: خَطَبَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم النَّاسَ بِمِنًی وَنَزَلَہُمْ مَنَازِلَہُمْ فَقَالَ: ((لِیَنْزِلِ الْمُہَاجِرُونَ ہَا ہُنَا))، وَأَشَارَ إِلٰی مَیْمَنَۃِ الْقِبْلَۃِ، وَالْأَنْصَارُ ہَا ہُنَا، وَأَشَارَ إِلَی مَیْسَرَۃِ الْقِبْلَۃِ، ثُمَّ لِیَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَہُمْ))۔ [2] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا اور انہیں اپنے اپنے مقامات پر اُترنے کو کہا، پھر فرمایا: ’’مہاجرین یہاں پڑاؤ کریں۔‘‘ اور قبلہ کی دائیں طرف اشارہ کیا۔ ’’اور انصار یہاں پڑاؤ کریں۔‘‘ اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا۔ ’’اور دیگر لوگ ان کے اردگرد اُتریں۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۲۸۹۲. [2] سنن أبی داود: ۱۹۵۱.