کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 162
’’یقینا اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، زمین و آسمان کی مخلوق، حتیٰ کہ اپنی بِل میں موجود چیونٹی اور (سمندر میں موجود) مچھلی، لوگوں کو خیروبھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔‘‘ 2. اچھی اور میٹھی وعظ: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾ [النحل: ۱۲۵] ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجیے اور ان کے ساتھ ایسے انداز میں مباحثہ کیجیے جو سب سے اچھا ہو۔‘‘ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے شخص کو کس طرح یہ کام کرنا چاہیے؟ تو انہوں نے فرمایا: یَأْمُرُ بِالرِّفْقِ وَالْخُضُوعِ، إِنْ أَسْمَعُوہُ مَا یَکْرَہُ لَا یَغْضِبُ فَیَکُونُ یُرِیدُ یَنْتَصِرُ لِنَفْسِہٖ۔[1] ’’وہ نرمی اور انکساری سے (نیکی کی) ترغیب دے، اگر لوگ اس کو (جواب میں) ایسی باتیں سنائیں جو اس کو ناگوار گزریں تو وہ غصہ نہ کرے، سو جب وہ (اس کا) ارادہ کر لے گا تو اپنے آپ کو کامیاب کر لے گا۔‘‘ 3. بار بار دعوت دیں: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ﴾ [نوح: ۵] ’’اے میرے رب! یقینا میں نے اپنی قوم کو رات دِن دعوت دی۔‘‘ [1] النضرۃ: ۵۳۹.