کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 160
اجازت نہیں ہے تو سوال کرنے میں تو بالاولیٰ نہیں ہو سکتی، لہٰذا عورت کے لیے مناسب و بہتر یہ ہے کہ وہ لکھ کر سوال کرے۔ البتہ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تعلیم و تربیت کے سلسلے میں اگر عورت کا بولنا لازمی ہو تو پھر اس کے بولنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس صورت میں رب تعالیٰ کا یہ فرمان پیشِ نظر رہے کہ: ﴿ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا ﴾ [الأحزاب: ۲ ۳] ’’پس تم نرم لہجے میں بات نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہو وہ کوئی براخیال کرنے لگے اورقاعدے کے مطابق کلام کرو۔‘‘ اس کے پیشِ نظر عورت بول کر بھی سوال کر سکتی ہے لیکن احتیاطی پہلو یہی ہے کہ وہ لکھ کر سوال کرے، کیونکہ ایک روایت میں عورت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر غیرمحرم سے گفتگو کرنے کو منع قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنْ نُکَلِّمَ النِّسَاءَ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِہِنَّ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم عورتوں سے ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر گفتگو کریں۔‘‘ لیکن اگر خاوند کی طرف سے اجازت ہو اور عورت اچھے انداز میں اور قاعدے کے مطابق صرف مطلب کی بات کرے تو اس کی گنجائش بھی موجود ہے۔ [1] صحیح الجامع: ۶۸۱۳۔ سلسلۃ الأحادیث الصححیۃ: ۶۵۲.