کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 156
عُمَیْرٍ: قَدْ آنَ لَکَ أَنْ تَزُورَنَا، فقَالَ: أَقُولُ یَا أُمَّہْ کَمَا قَالَ الْأَوَّلُ: زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا، قَالَ: فَقَالَتْ: دَعُونَا مِنْ رَطَانَتِکُمْ ہٰذِہٖ، قَالَ ابْنُ عُمَیْرٍ: أَخْبِرِینَا بِأَعْجَبِ شَیْئٍ رَأَیْتِہٖ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، قَالَ: فَسَکَتَتْ ثُمَّ قَالَتْ: لَمَّا کَانَ لَیْلَۃٌ مِنَ اللَّیَالِی، قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ ذَرِینِی أَتَعَبَّدُ اللَّیْلَۃَ لِرَبِّی)) قُلْتُ: وَاللّٰہِ إِنِّی لَأُحِبُّ قُرْبَکَ، وَأُحِبُّ مَا سَرَّکَ، قَالَتْ: فَقَامَ فَتَطَہَّرَ، ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی، قَالَتْ: فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی بَلَّ حِجْرَہُ، قَالَتْ: ثُمَّ بَکٰی فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی بَلَّ لِحْیَتَہٗ، قَالَتْ: ثُمَّ بَکٰی فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی بَلَّ الْأَرْضَ، فَجَائَ بِلَالٌ یُؤْذِنُہٗ بِالصَّلَاۃِ، فَلَمَّا رَآہُ یَبْکِی، قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ، لِمَ تَبْکِی وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، قَالَ: ((أَفَلَا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا، لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَیَّ اللَّیْلَۃَ آیَۃٌ، وَیْلٌ لِمَنْ قَرَأَہَا وَلَمْ یَتَفَکَّرْ فِیہَا: ﴿ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ الْآیَۃَ کُلَّہَا [آل عمران: ۱۹۰] )) [1] ’’میں اور عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبید بن عمیر سے فرمایا: تمہیں ہمارے ہاں آنے کا اب موقع ملا ہے؟ تو انہوں نے کہا: امی جان! میں وہی کہوں گا جیسے پہلے لوگوں میں کسی نے کہا ہے کہ وقفے کے ساتھ ملا کرو؛ محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو۔ ابن عمیر نے عرض کیا: آپ ہمیں اس چیز کے بارے میں بتلائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سب سے حیرت انگیز چیز دیکھی ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہو گئیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ایک [1] صحیح ابن حبان: ۶۲۰.