کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 155
((لَأَنْ یُطْعَنَ فِی رَأْسِ رَجُلٍ بِمِخْیَطٍ مِنْ حَدِیدٍ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ أَنْ تَمَسَّہُ امْرَأَۃٌ لَا تَحِلُّ لَہٗ))[1] ’’اگر آدمی کے سر میں لوہے کا کیل ٹھونک دیا جائے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔‘‘ ان تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مرد و زن کا اختلاط نہیں ہونا چاہیے، حتیٰ کہ سلام لینے کا کس قدر اجر ہے اور مصافحہ کرنے سے دونوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود عورت، مرد سے اور مرد، عورت سے مصافحہ نہیں کر سکتا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جتنا بھی کوئی نیک انسان ہو، اس کے لیے کسی غیرمحرم عورت کو چھونا ہرگز جائز نہیں ہے۔ 9. دعوتی پروگرامز میں عورت اور مرد کے درمیان پردہ حائل ہو: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللّٰهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيمًا ﴾ [الأحزاب: ۵۳] ’’اور جب تم ان (ازواجِ مطہرات) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، تمہارے اور ان کے دِلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے، نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناہ) ہے۔‘‘ عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ عَلٰی عَائِشَۃَ، فَقَالَتْ لِعُبَیْدِ بْنِ [1] صحیح الجامع: ۵۴۵۰.