کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 152
7. عورتوں کی نشستیں مردوں کے بعد ہوں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خَیْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُہَا وَشَرُّہَا آخِرُہَا، وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ آخِرُہَا وَشَرُّہَا أَوَّلُہَا)) [1] ’’مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف پہلی اور بری صف آخری ہے جبکہ عورتوں کی صفوں میں سے بہترین صف آخری اور بری صف پہلی ہے۔‘‘ 8.معلم کو تنبیہ کرنے کے لیے عورت تحریری طور پر مطلع کرے: یعنی اگر معلم پڑھا رہا ہو اور درس دے رہا ہو تو اس کی گفتگو میں کوئی نشیب و فراز آ جاتا ہے یا کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جس کے متعلق عورت وضاحت چاہتی ہو یا اس کی درستگی کرنا چاہتی ہو، تو وہ کاغذ وغیرہ پر لکھ کر معلم و مدرس کو آگاہ کرے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلتَّسْبِیحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ)) [2] ’’تسبیح (سبحان اللہ کہنا) مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے۔‘‘ اس تالی سے مراد عام تالی نہیں ہے بلکہ اس کی صورت یہ ہے کہ اگر امام بھول جائے تو عورت اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر مارے گی، جس سے امام کو سمجھ آ جائے گی کہ کوئی غلطی ہو گئی ہے۔ عورتوں کے لیے مردوں کی طرح ’’سبحان اللہ‘‘ کہنا اس لیے نہیں رکھا گیا کہ ان کی آواز کسی فتنے کا باعث نہ بن جائے۔ اس روایت سے یہ بات احاطہ علم میں آتی ہے کہ اگر مرد و خواتین کی کلاس ہو رہی ہو اور معلم کی کلام کے کسی حصے کی وضاحت درکار ہو تو اس کے لیے مرد بول کر سوال کر سکتا ہے جبکہ عورت اس کو تحریر کر کے معلم تک پہنچا دے۔ [1] صحیح مسلم: ۱۳۲. [2] صحیح البخاری: ۱۲۰۳۔ صحیح مسلم: ۴۲۳.